ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری آبی ذخائر کا جائزہ لینے مرکزی ٹیم کی ریاست آمد؛ ریاستی حکومت کو کرناٹک کے ساتھ انصاف ملنے کی توقع

کاویری آبی ذخائر کا جائزہ لینے مرکزی ٹیم کی ریاست آمد؛ ریاستی حکومت کو کرناٹک کے ساتھ انصاف ملنے کی توقع

Sat, 08 Oct 2016 01:32:28    S.O. News Service

بنگلورو۔7/اکتوبر(ایس او نیوز) کاویری طاس میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق آج ریاست پہنچنے والی ماہرین کی ٹیم نے کاویری طاس کے مختلف آبی ذخائر کا معائنہ کیااور یہاں پانی کی مقدار کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ اس ٹیم کو محکمہئ آبی وسائل کے افسران اور مقامی کسانوں نے آبی ذخائر میں پانی اور کاشتکاری کو ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی۔آبی ذخائر کیلئے روانہ ہونے سے قبل ودھان سودھا میں وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل نے اس ٹیم کا خیر مقدم کیا اور ریاستی حکومت کی طرف سے ٹیم کو جو بھی جانکاری دینی چاہئے تھی/ فراہم کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ چیف سکریٹری سبھاش کنٹیا بھی موجود تھے۔ آج صبح اپنا دورہ شروع کرنے سے پہلے ودھان سودھا کی کمیٹی روم میں ماہرین کی ٹیم نے کافی وقت تک وزیر موصوف اور دیگر افسران کے ساتھ بات چیت کی۔ ایم بی پاٹل نے ٹیم کو کاویری طاس میں پانی کی قلت کے متعلق تمام تفصیلات سے آگاہ کرایا اور گذارش کی کہ ٹیم جب اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرے گی تو انصاف پسندی کے ساتھ پیش کرے، تاکہ ریاست میں پانی کی قلت سے جو عوام پریشان ہیں ان کو راحت مل سکے۔ ٹیم کے سربراہ جی ایس جھانے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد بتایا کہ کل دوبارہ دورہ مکمل کرنے کے بعد ٹیم وزیر آبی وسائل اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ تبادلہئ خیال کرے گی۔آج کی میٹنگ میں مسٹر جی ایس جھا کے علاوہ مرکزی آبی کمیشن کے ممبر مسعود حسین، چیف انجینئر آر کے گپتا، مرکزی وزرات زراعت کے اڈیشنل کمشنر ایم بیرت، تملناڈو کے محکمہئ تعمیرات عامہ کے پرنسپل سکریٹری ایس کے پربھا کر، تملناڈو کی کاویری تکنیکل کمیٹی کے چیرمین سبرامنیم، پانڈیچری کے محکمہئ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر سوامی ناتھن، سپرنٹنڈنٹ انجینئر سندرم، چیف ایگزی کیٹیو انجینئر اے راج شیکھر، کیرلا کے چیف انجینئر وی کے مہانو دیون  موجود تھے۔ کرناٹک کی طرف سے نمائندگی کرنے والوں میں ایم بی پاٹل کے علاوہ ڈیولپمنٹ کمشنر لتا کرشنا راؤ، چیف سکریٹری سبھاش چندر کنٹیا، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری ایل کے عتیق، سابق چیف سکریٹری اروند جادھو، محکمہئ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری راکیش سنگھ، کاویری نیراوری نگم کے منیجنگ ڈائرکٹر چک رایپا اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر جھانے کہاکہ دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم اور موجودہ صورتحال کے بارے میں ٹیم نے مکمل جانکاری حاصل کی ہے، کاویری طاس کا دورہ کرنے کے بعد ٹیم کو مزید حقائق کا پتہ چلے گا جس کے بعد مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ایم بی پاٹل نے بتایاکہ ٹیم کو کاویری طاس میں پانی کی قلت اور بنگلور سمیت میسور، منڈیا اور آس پاس کے علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی سے عوام کو لاحق پریشانی کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک جن مشکلات سے دوچار ہے مرکزی ٹیم نے اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے بعد، ایسا لگتا ہے کہ صورتحال کو سمجھا ہے۔یہ ٹیم دوبارہ کل کرناٹک اور تملناڈو کے آبی ذخائر کا معائنہ کرے گی اور کل شام پھر ودھان سودھا میں اس کمیٹی کے ساتھ میٹنگ ہوگی۔ مسٹر پاٹل نے کمیٹی کے ممبران سے اپیل کی کہ کسی بھی حال میں مرکزی حکومت کو یہ مشورہ نہ دیا جائے کہ کرناٹک کو دوبارہ تملناڈو کو کاویری کا پانی فراہم کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑے۔


Share: